Transcript · Urdu → English
Urdu → English transcript
Just keeping your mouth shut so you do
not eat, while you keep committing forbidden acts,
you keep consuming interest,
you keep lying,
you keep accusing people,
you keep slandering,
you keep casting looks at non-
mahram women,
you keep doing every prohibited act,
you keep doing every wrong deed,
but from dawn till
evening you
did not eat,
and you call
that“ fasting,”
this will be starvation.
Keeping the mouth shut like this is starvation, not fasting.
Taqwa is not attained through this kind of restriction.
These thirty days
are actually
exercises for taqwa.
The provision for life that Allah Almighty has prescribed,
taqwa, in the blessed month of Ramadan,
special exercises are arranged for it.
This is the month of
training exercises.
Armies definitely make their
soldiers do
exercises at least once a year.
After basic training,
they assign them duties,
they entrust them with responsibilities,
and during the performance of those duties,
again for some specific days,
they are made to do exercises,
so that their readiness
is restored.
In everyday life,
in daily routines,
our readiness decreases.
A person’s attention gets distracted,
their energies get divided,
a person becomes entangled in problems,
worries surround a person,
and many people fall
into mental confusion. The real work is left behind, it is forgotten, then one is
called again so that this readiness can be made complete,
and then the thirty days of exercises are started.
If a believer,
for thirty days,
gains readiness by spending the month of Ramadan with this schedule,
by spending it with
this schedule,
with this order,
which Allah Almighty and the Messenger of Allah,
peace and blessings be upon him and his family,
and the Ahl al- Bayt,
peace be upon them,
have explained as the method of Ramadan, the way the Messenger of Allah,
peace and blessings be upon him and his family, spent Ramadan, and the method of
Ramadan of every Imam
is available,
then if a person spends these
thirty days of
Ramadan well,
they attain full
readiness within
themselves.
This readiness is
called taqwa.
If we live with these
etiquettes.
If we spend Ramadan with our Lahori etiquettes,
if we spend Ramadan with our Pakistani etiquettes…
End of transcript · 368 words · machine translated
Original transcript (Urdu)
فقط منہ بند کر لینا کہ کھائیں نہیں اور حرام کرتے رہیں، سود کھاتے رہیں، جھوٹ بولتے رہیں، تہمت لگاتے رہیں، بہتان لگاتے رہیں، تہمت لگاتے رہیں، بہتان لگاتے رہیں، نامحرم پہ نگاہیں ڈالتے رہیں،
نامحرم پہ نگاہیں ڈالتے رہیں، ہر ممنوعہ کام کرتے رہیں، ہر غلط کام کرتے رہیں، ہر ممنوعہ کام کرتے رہیں، ہر غلط کام کرتے رہیں، لیکن طلوعِ فجر سے شام تک کھانا نہیں کھایا، اس کا نام روزہ رکھ لیں، یہ فاقہ ہو گا۔ یہ منہ بند رکھنا فاقہ ہے، روزہ نہیں ہے۔
یہ فاقہ ہو گا۔ یہ منہ بند رکھنا فاقہ ہے، روزہ نہیں ہے۔ یہ فاقہ ہو گا۔ یہ منہ بند رکھنا فاقہ ہے، روزہ نہیں ہے۔ تقویٰ اس بندش سے حاصل نہیں ہوتا۔ یہ تیس دن کی مشقیں ہیں، اصل میں تقویٰ کے لیے۔ یہ تیس دن کی مشقیں ہیں، اصل میں تقویٰ کے لیے۔
اللہ تعالیٰ نے جو زندگی کا توشہ ہے تقویٰ، ماہِ مبارکِ رمضان میں خصوصی مشقیں کروائی جاتی ہیں۔ یہ مشقوں کا مہینہ ہے۔ یہ مشقوں کا مہینہ ہے۔ افواج اپنے سپاہیوں کو سال میں ایک دفعہ ضرور مشقیں کرواتے ہیں۔
ابتدائی تربیت کے بعد انہیں ڈیوٹیاں دے دیتے ہیں، فرائض سونپ دیتے ہیں، ابتدائی تربیت کے بعد انہیں ڈیوٹیاں دے دیتے ہیں، فرائض سونپ دیتے ہیں، فرائض کی انجام دہی کے دوران پھر انہیں کچھ مخصوص دنوں کے لیے مشقیں کروائی جاتی ہیں، تاکہ ان کی آمادگی بحال ہو۔ تاکہ ان کی آمادگی بحال ہو۔
روزمرہ زندگی میں، معمولاتِ زندگی میں آمادگی کم پڑ جاتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں، معمولاتِ زندگی میں آمادگی کم پڑ جاتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں، معمولاتِ زندگی میں آمادگی کم پڑ جاتی ہے۔ انسان کی توجہ بٹ جاتی ہے، توانائیاں تقسیم ہو جاتی ہیں، انسان کی توجہ بٹ جاتی ہے، توانائیاں تقسیم ہو جاتی ہیں،
مسائل میں انسان الجھ جاتا ہے، پریشانیاں انسان کو گھیر لیتی ہیں اور بہت سارے انسان کے ذہن میں انتشارِ فکری آ جاتا ہے۔ پھر تیس روزہ مشقیں شروع کروائی جاتی ہیں۔ مومن کے اندر تیس روزہ آمادگی اگر ماہِ رمضان کو اس شیڈول کے ساتھ، مومن کے اندر تیس روزہ آمادگی اگر ماہِ رمضان کو اس شیڈول کے ساتھ،
اس سکیجول کے ساتھ گزارے، اس ترتیب کے ساتھ گزارے اس سکیجول کے ساتھ گزارے، اس ترتیب کے ساتھ گزارے جو اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور اہل بیتِ اطہار علیہم السلام نے جو طریقہ کار رمضان کا بیان فرمایا ہے۔
اور اہل بیتِ اطہار علیہم السلام نے جو طریقہ کار رمضان کا بیان فرمایا ہے۔ جس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان گزارا۔ ہر امام کا رمضان کا طریقہ کار موجود ہے۔ خوب یہ رمضان اگر تیس روزہ انسان گزارے، خوب یہ رمضان اگر تیس روزہ انسان گزارے،
اس کے اندر بھرپور آمادگی آ جاتی ہے۔ اس کے اندر بھرپور آمادگی آ جاتی ہے۔ اس کے اندر بھرپور آمادگی آ جاتی ہے۔ اس آمادگی کا نام ہے تقویٰ۔ اس آمادگی کا نام ہے تقویٰ۔
اس آداب کے ساتھ اگر گزاریں ہم۔ اس آداب کے ساتھ اگر گزاریں ہم۔ اگر ہم اپنے لاہوری آداب کے ساتھ رمضان گزاریں، پاکستانی آداب کے ساتھ رمضان گزاریں... اگر ہم اپنے لاہوری آداب کے ساتھ رمضان گزاریں، پاکستانی آداب کے ساتھ رمضان گزاریں...