Rituals of Youth in Nepal and Tibet
نیپال میں
تبت میں
آج بھی
نوجوان لڑکے
عاشور کے دن
صبح اپنے گھر سے نکل جاتے ہیں چھریاں لے کر
اور جنگل میں پہنچتے ہیں
اور قمیصیں اتار کے چھریاں مارنا شروع کرتے ہیں یا حسین کہہ کے
نیپالی بدھ مذہب رکھنے والے یا حسین کہہ کے
اور اس کے بعد وہ مر جاتے ہیں
چھری مار لیتے ہیں اور مر جاتے ہیں
ان کی موت واقع ہو جاتی ہے کئی سو نوجوانوں کی
اور اس کے بعد شام کو وہ اٹھ کر اپنے گھر ٹھیک ہو کے واپس آ جاتے ہیں
جس کا دل چاہے جا کے دیکھے کہ کیسے مرتے ہیں اور کیسے جیتے ہیں
مرتے بھی دیکھا گیا ہے انہیں اور زندہ ہوتے بھی دیکھا گیا ہے
اور پوچھا بھی گیا کہ بھئی جب مر جاتے ہو تو زندہ کیسے ہوتے ہو؟
تو وہ کہتے ہیں کہ شام کو
کوئی آتا ہے اور اپنے پیر سے ہمارے زخموں پر مس کرتا جاتا ہے
اٹھو گھر جاؤ، اٹھو گھر جاؤ
ہم پوچھتے ہیں کون؟ تو آواز آتی ہے عباس
عباس
ہاں ان تاریک جنگلوں میں، گھنے جنگلوں میں
End of transcript · 181 words