مکہ و مدینہ کی حرمت: آل سعود، ویزا اور اسلامی انتظام
مکہ مدینہ آل سعود کی ملکیت نہیں ہے۔ مکہ مدینہ ان کے جرائم کی
ڈھال نہیں ہے۔ مقدس ہے، واقعاً مقدس ہے۔ مقدس چیز کو ڈھال بنا
کے پیش کرنا اس کے احترام میں بے حرمتی ہے۔ اصولی طور پر تو مکہ مدینہ
کے لیے ویزا کی بھی شرط نہیں ہونی چاہیے。 عالم اسلام کے لیے مکہ مدینہ میں آنا
جانا آزاد ہونا چاہیے، free ہونا چاہیے。 عراق اور پاکستان کے اندر خطرناک
صورت حال بنتی جا رہی ہے چونکہ وہاں پر حرمین ہیں، مکہ مدینہ ہیں
اور مکہ مدینہ کو ڈھال بنا کر آل سعود بھی استفادہ کرتے ہیں اور ان کے حامی
بھی۔ ایک تو مکہ مدینہ کی حفاظت ہونی چاہیے ضروری کہ مکہ مدینہ ان
کے جرائم کی ڈھال نہیں ہیں، مقدس ہیں، واقعاً مقدس ہیں۔ مقدس چیز کو
ڈھال بنا کے پیش کرنا اس کے احترام میں بے حرمتی ہے۔ ایران کے اندر بھی
حرم ہیں، مقدسات ہیں لیکن انہوں نے ڈھال نہیں بنایا۔ رہبر جا
کے حرم امام رضا کے، اس میں چھپے نہیں وہاں پر۔ وہ حرم اپنی جگہ قائم
ہے اور یہ اپنے دفتروں میں شہید ہوئے، اپنے گھروں میں شہید ہوئے۔ اسی طرح اگر
کسی جگہ مقدسات ہیں تو مقدسات کو ڈھال نہ بنائیں، مکہ مدینہ آل
سعود کی ملکیت نہیں ہے۔ مکہ مدینہ، یہ دونوں حرم عالم اسلام
کے مقدسات ہیں اور اس کے ساتھ جتنا آل سعود کا تعلق ہے اتنا غیر
آل سعود کا تعلق ہے۔ یمنیوں کا بھی اتنا ہی تعلق ہے اس کے ساتھ۔ یوں نہیں کہ قبضہ آپ
کا ہے تو آپ اس کے مالک بن گئے اور باقی سارے اس سے لاتعلق ہو گئے
ہیں۔ پاکستانی ہر فرد کا، شیعہ سنی ہر مسلمان کا
مکہ مدینہ سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا سعودی عوام کا تعلق ہے۔ مکہ مدینے
میں رہنے والوں کا جتنا تعلق ہے۔ اصولی طور پر تو مکہ مدینہ کے لیے ویزا کی بھی
شرط نہیں ہونی چاہیے。 عالم اسلام کے لیے مکہ مدینہ میں آنا جانا آزاد ہونا
چاہیے، free ہونا چاہیے。 اصولی طور پر مکہ مدینہ کی مدیرت اور تولیت
پورے عالم اسلام کے ذریعے سے ہونی چاہیے، عالمی اسلامی کسی
انتظامیہ کے ذریعے سے ہونی چاہیے تھی اور کم از کم یہ ہے کہ مکہ مدینہ کو
آپ ڈھال کے طور پر استعمال نہ کریں۔ کعبہ کی بے حرمتی، مکہ مدینہ کی بے حرمتی
وہ کر رہے ہیں جو اس کو ڈھال بنا کے استعمال کر رہے ہیں۔ جیسے ہوتا ہے، بزدل لوگ کبھی
عورتوں کو ڈھال بنا لیتے ہیں۔ دلیر لوگ عورتوں کو گھروں میں محفوظ رکھ کے خود
میدان میں آتے ہیں۔ مکہ مدینہ کو ڈھال نہ بنائیں، مکہ مدینہ مقدسات ہیں تو بھی
لیکن پاکستان میں اس کو ڈھال کے طور پر استعمال کر کے پاکستان کے اندر
تشدد کو ہوا دی جا رہی ہے۔ یہ بہت خطرناک کام ہے اور عراق کے اندر بھی
اسی کے مشابہ کام ہو رہا ہے اور عراقی حکومت یہ کام کر رہی ہے۔ یہاں
پر تکفیری طبقہ، ریال خور طبقہ یہ کام کر رہا ہے اور وہاں پر حکومت
سعودی عرب کے یعنی یہاں جو ریال اور ناشتا گروپ ہے اسی طرح عراق
میں خود عراق کا شیعہ وزیراعظم ناشتا گروپ کا ہے۔ وہ گیا ٹرمپ کا ناشتا کھا کے
آیا ہے اور اس کے بعد وہ وہی کام کرتا ہے جو ٹرمپ اس کو کہہ رہا ہے۔ اس لیے
مکہ مدینہ کی حرمت کا، حرمین کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے۔
End of transcript · 567 words