Analysis of Yemen Conflict and Houthi Resistance
داعش
جو مشترکہ ٹیم ہے سب کی، ترکیہ کی، قطر کی،
سعودی عرب، امارات، امریکہ،
اسرائیل ان سب کا ملا مشترکہ جو لشکر ہے،
جو ابھی شام پر قابض ہے اور جو پہلے عراق پر قبضے کی کوشش کر
رہا تھا، یہ چوتھا مضبوط گروہ ہے جو یمن کے اندر موجود ہے۔
لیکن ان سب میں جو طاقتور ہے، جس کا غلبہ ہے وہ
حوثی ملیشیا ہے جو مذہبی لحاظ سے زیدی
شیعہ کہلاتے
ہیں۔ انہوں نے
سعودی عرب نے ان حوثیوں کے خلاف جنگ لڑی تاکہ اپنے حمایت یافتہ
لوگوں کو یمن میں مسلط کرا سکیں، انہوں نے مزاحمت کی،
مقاومت کی اور نہیں ہونے دیا یہ کام اور آخر کار
سعودیہ کو بھی شکست ہوئی اور جنگ بندی، ایک
نانوشتہ جنگ بندی Agreement کے بغیر مذاکرات ہوئے عمان میں
اور
جنگ بندی کر دی انہوں نے
دو ہزار بیس میں غالباً اور پھر
دو ہزار بیس کے بعد اب دوبارہ
جب
مشرق وسطی کے اندر پھر ہلچل ہوئی تو سعودی عرب نے پھر
حمایت کی اپنے حمایت یافتہ گروہ کی
اور انہوں نے
حوثی ملیشیا پر چڑھائی شروع کر دی، صنعاء پر قبضہ
کرنے کے لیے۔
یہ جو آخری جنگ ہے جو ابھی جاری ہے، چند ہفتے پہلے
شروع ہوئی
ہے۔ صنعاء پر حوثی ملیشیا پر چڑھائی کر دی سعودیہ
حمایت یافتہ گروہ نے اور سعودیہ نے ان کی حمایت
کے لیے اپنی ہوائی طاقت استعمال کی اور حوثی
ٹھکانوں پر حملے کیے،
جس کے جواب میں حوثی ملیشیا نے سعودی
حمایت یافتہ لشکر کا بھی مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی
اور ان کے علاقوں پر چڑھائی کر کے قبضہ کر لیا، جو
صنعاء پر قبضہ کرنے آ رہے تھے،
وہ پسپا ہوئے، انہیں شکست ہوئی اور
چونکہ سعودیہ نے باقاعدہ ہوائی مدد کی، بمبارمنٹ کی،
یہ ماجرا اصل میں شروع ہوا تھا جب
رہبر شہید کی تشییع میں
یمنی وفد آیا تھا، چونکہ سعودیہ نے ناکہ بندی کی ہوئی
ہے یمن کی،
زمینی ناکہ بندی، دریائی ناکہ بندی اور ہوائی ناکہ بندی
کہ کوئی بھی یمن میں امدادی سامان کسی قسم
کا فوجی غیر فوجی نہیں جائے گا جو حوثی ملیشیا کو
جا رہا ہے۔ صرف حوثیوں کی ناکہ بندی ہے، باقیوں کو ہر چیز
پہنچ رہی
ہے اور یہ سب کچھ سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ذریعے سے یہ کام
کیا ہوا تھا۔ اب رہبر شہید کی
تشییع میں یمنیوں نے کہا کہ ہم نے شرکت کرنی ہے لیکن
راستے بند ہیں۔ نہ سمندری راستے سے آ سکتے ہیں،
نہ ہوائی راستے سے، نہ زمینی راستے سے آ سکتے ہیں۔ زمینی راستہ سعودی
عرب سے گزرتا
ہے۔ لہذا انہوں نے تقاضا ایران سے کیا، ایران نے
ایک جہاز بھیجا
ان زائرین کو لانے کے لیے البتہ سعودیہ سے ہم آہنگی کی
کہ ہم یہ صرف تشییع میں آنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے اجازت نہیں دی
اور ایرانی pilot نے وہ مسافر جہاز ان
کی warning کے بغیر، threat کے بغیر باوجود وہ بھیج
دیا اور وہ صنعاء پر اترا
اور ان یمنیوں کو بٹھا کے لے آیا،
تہران میں لے آیا وہ جہاز اور انہوں نے تشییع میں شرکت کی۔
اسی دوران سعودیہ نے ان کے airport پر بمباری کی، جب یہ
وفد واپس بھی گیا وہی جہاز ان کو لے کر پھر بھی یہی ہوا،
انہوں نے طیارے بھیجے، اس جہاز کو threat کیا بالاخر وہ خطرے میں وہ
جہاز اتر گیا
اور یمنیوں نے یہاں سے سعودی عرب کو warning دی کہ ہماری
ناکہ بندی ختم کی جائے، اگر ہماری ناکہ بندی آپ رکھو گے، ہم بھی آپ کی
ناکہ بندی کریں گے،
ہم آپ کی تجارت، آپ کا تیل پھر نہیں جانے دیں گے، اگر آپ
ہمارے کوئی راستے بند کیے ہوئے ہیں، چاروں، تینوں راستے
بند کیے ہوئے ہیں، سمندری راستہ، زمینی راستہ اور ہوائی
راستہ تو پھر ہم بھی آپ کے راستے بند کریں گے۔ یہ اصل ماجرا
تھا جس وجہ سے یہ موجودہ کشیدگی اور جنگ شروع ہوئی
لیکن بن سلمان جو مطمئن تھا
کہ اس نے دفاعی معاہدے کیے ہوئے ہیں، اس کے پاس امریکی فوج ہے، اس کے
پاس اسلحے کا ڈپو ہے، فلاں ہے تو یہ طاقت کے نشے میں
اس نے
حوثی ملیشیا پر حملہ کر کے اور جو ان کے اپنے حمایت یافتہ
تھے، ان کو اکسایا کہ آپ یہ حوثیوں کا
کام ہمیشہ کے لیے تمام کر دیں، یہ planning ان کی مشترکہ تھی
کہ حزب اللہ کا کام
لبنانی حکومت، فرانس، امریکہ اور اسرائیل مل کے حزب
اللہ کا کام تمام کریں گے۔ عراقی حکومت جو موجودہ
علی زیدی کی سربراہی میں ہے، یہ سعودی عرب اور
امریکہ اور ترکیہ مل کے اشد الشابی کا کام تمام کریں گے۔
ان کے بقول حماس کا کام تو ہم نے پہلے ہی تمام کر دیا ہے،
صرف ایک ملک ہے جہاں مزاحمت و مقاومت کا
محاذ مضبوط ہے اور وہ یمن ہے جنہوں نے اسرائیل کو بہت tough
time دیا ہے۔
End of transcript · 799 words