Emotional Scenes at Jail Visit
جی اس وقت یہاں آپ جو مناظر دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہر
شخص جو ہے وہ اپنے پیارے کو ملنے کے لیے یہاں
پر جو ہے وہ موجود ہے اور یہاں پر جو ملزمان ہیں وہ اس وقت
جو اپنے اپنے بزرگوں کو دیکھ کر زار و قطار رو رہے ہیں
اور پشیمانی کی آگ میں اس وقت وہ جل رہے ہیں۔ آپ یہ دیکھ رہے ہیں ایک
ملزم ہے ان کے پاس یہ اس وقت دیکھیں ہاتھ میں اس وقت ان کے
یہ ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہے۔ یہ ہاتھ یہ ہاتھ جو ہیں یہ گھر کا بوجھ اٹھانے کے لیے
ہیں۔ لیکن آج ان ہاتھوں نے ہتھکڑیاں ہتھکڑی کا بوجھ برداشت کر رکھا
ہے۔ یہ بزرگ اپنے ملنے کے لیے اپنے عزیز کو ملنے کے لیے یہاں پر آیا۔
یہاں یہاں پر موجود ہے اور آپ ان کی صورتحال دیکھ رہے ہیں کہ کیا
صورتحال ہے۔ یہ مناظر ہیں یہاں پر یہ یہاں مناظر ہیں
جو یہاں اس وقت ہو رہے ہیں اور لوگ زار و قطار جو
ہیں وہ رو رہے ہیں۔ یہاں ان کا یہ کہنا ہے کہ اگر ہماری اولاد اچھا کام
کرتی تو آج ہمیں یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ یہ بزرگ جو میرے پاس اس
وقت موجود ہیں، ہم ان سے بھی بات کرتے ہیں آپ۔ آپ یہ بتائیے کہ
یہاں یہ کیسے یہ چلے گئے اور کیا ہوا آپ کے ساتھ؟
میں باہر جا رہا تھا。 میں نے اس کو منع بھی کیا تھا کہ بیٹا تھوڑے
بات بچ کے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھنا۔ یہ میری بات نہیں مانی。 میں
اس کی وجہ سے روزی کمانے کے لیے باہر گیا تھا。 میں ابھی ابھی کویت سے آیا ہوں۔ مجھے
پتا لگا میرا بیٹا جیل میں ہے۔
یہ صورتحال ہے یہاں پر یہ یہ صورتحال جو ہے یہ آپ دیکھ
رہے ہیں اس وقت اگر یہ اولاد کوئی
جرم کرنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ یہ جرم کرنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ
ہمارے ہمارے والدین کے ساتھ یہ کچھ ہو گا تو کیا
صورتحال ہو گی؟ یہاں جو بھی آدمی جیل جاتا ہے اس
کے، اس کی گرفتاری، اس کی جو ہے گرفتاری سے لے کر اس کی
عدالت تک جو ہے وہ یہاں پر اس کے سارا کچھ لگ جاتا ہے
یہاں تک کہ بچوں کا جو جو بچیوں کا جو جہیز
ہے وہ بھی ان کا ان عدالتوں میں جو ہے وہ لگ چکا ہے
اور نئی آنے والی نسل جو ہے ان کو یہ چاہیے کہ وہ اس
سے سبق سیکھیں اور جو لوگ
جرائم کی طرف راغب ہو رہے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ کم از کم
یہ سوچیں کہ اگر ہم نے کوئی غلط قدم اٹھایا، جرائم کی زندگی اپنائی
اپنائی تو ہمارے والدین اسی طرح ہمارے والدین جو ہیں وہ اسی
طرح یہاں پر آئیں گے اور روئیں گے اور ہمیں
ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیمرہ مین زاہد ملک کے ساتھ شاہین نثار،
سٹی فورٹی ٹو، ضلع کے شاہی。
نجات۔
End of transcript · 492 words