Changes in Saudi Educational Curriculum
سعودی تعلیمی نصاب سے اسرائیل مخالف عبارتیں غائب ہو رہی
ہیں اور اسرائیلی ماہرین کتابوں میں کی گئی ان تبدیلیوں
کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ اسرائیلی تنظیم Impact C کی
رپورٹ کے مطابق سعودی نصاب تعلیمی سال برائے دو ہزار پچیس
اور دو ہزار چھبیس وسیع تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ سب سے
نمایاں تبدیلی یہ جملہ حذف کر دیا گیا ہے کہ
مسلمان کبھی بھی بیت المقدس سے دست بردار نہیں ہوں
گے۔ گیارہویں جماعت کی عربی زبان کی کتاب سے حذف کیے گئے
اس جملے کو اسرائیل میں خصوصی توجہ ملی۔ اخبار
معارف کے مطابق اس کے حذف ہونے کے سیاسی مضمرات
ہو سکتے ہیں اور شاید ایسا کرنا اس مالدار مملکت اور
اسرائیل کے مابین تعلقات کی وسیع تر بحالی کی راہ
ہموار کرے۔ مگر تبدیلی صرف بیت المقدس تک محدود
نہیں ہے۔ سابقہ نصاب میں اسرائیل کو صیہونی دشمن کہا
جاتا تھا۔ نئے نصاب میں اس کی جگہ قابض اسرائیل
کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سکولوں میں
بعض نقشوں میں بھی تبدیلیاں نوٹ کی گئی ہیں، جن میں انیس
سو اڑتالیس کے علاقوں سے فلسطین کا نام حذف کرنا شامل
ہے۔ ان علاقوں کو بغیر کسی نام کے چھوڑ دیا گیا
ہے۔ ساتھ ہی نصاب میں یہودیوں، مسیحیوں اور
بعض مسلم فرقوں سے متعلق منفی مواد کم کیا
گیا ہے۔ تنظیم Impact C کے مطابق یہ تبدیلیاں سعودی
عرب کے Vision دو ہزار تیس کے تحت تعلیمی اصلاحات کا حصہ
ہیں۔ ان کا مقصد رواداری، بقائے باہمی اور
تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہے۔ مگر رپورٹ کے مطابق
اسرائیل کو اب بھی قابض ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے
اور یہ نصاب میں موجود نقشوں سے اب بھی غائب ہے۔
اس رپورٹ کا تجزیہ دو ہزار پچیس اور دو ہزار چھبیس کی ایک سو
چھتیس سے زائد اسکول کی کتابوں پر مشتمل تھا۔
تو کیا یہ خود مختار تعلیمی اصلاحات ہیں یا ایک ایسی
نئی تشکیل جو زیادہ قریبی سیاسی تعلق کی راہ
ہموار کر رہی ہے؟
End of transcript · 327 words