Religious and Political Obligations in Defense

میں اور agreement نہ بھی ہو، اگر

سعودی عربیہ پہ کوئی حملہ ہوتا ہے، خصوصاً میں جو ہمارے مقدس

مقامات ہیں، ان پہ حملہ ہوتا

ہے، تو we are bound by the eternal

agreement and that is کہ ہم

جو خدا کا گھر ہے اور مدینہ منورہ جو ہے،

اس کی حفاظت تو ہمارا ایک مذہبی فریضہ ہے۔

تو یہ ٹھیک ہے، ایک دنیاوی agreements بھی ہوتے ہیں

اور ان کا بھی ایک اپنا ایک sanctity ہوتی ہے اور اس کو بھی

honor کرتے ہیں لیکن جب خانہ خدا پہ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت جہاں پہ جس شہر میں ہوئی

ہے، اس پہ حملہ ہو گا تو کوئی بھی مسلمان جہاں بھی

بیٹھا ہوا ہے، اس کے اوپر یہ ultimately کسی agreement

کے انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے یا ان agreement کو activate کرنے کی

ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہمارا ایک مذہبی فریضہ ہے اس کو protect کرنے کا

لیکن

ایک دنیاوی ایک وہ بھی ہے، ایک

agreement ہے اور اس کی بھی obligations ہیں، ہم پوری کریں

گے، چاہے وہ ہماری مذہبی اور جو محبت کا رشتہ ہے، جو

احترام کا اور مقدس کا رشتہ جو ہے، وہ بھی،

وہ تو operate ہر حال میں ہو گا اور یہ بھی ہر حال میں operate ہو گا،

جو ایک دنیاوی ہمارا agreement ہے سعودی عربیہ کو

protect کرنے کا یا سعودی عربیہ کو پاکستان کو protect کرنے کا یا

ترکی کو

دونوں کو protect کرنے کا یا ہم دونوں کو جو ہے سعودی عربیہ اور

پاکستان کو ترکی کو protect کرنے کا، ایک mutual agreement

ہے جو بھی حملہ اور ایک ملک پہ ہو گا،

باقی دو تینوں

ملک

جو ہیں، وہ باہم باہم جو ایک

معاہدہ ہے اس کے تحت جو ہے وہ defend کریں گے۔

End of transcript · 293 words

iPhone app Translate videos on your iPhone Paste a TikTok, Instagram or X link, add subtitles in your language and save the video to Photos.

Read any video in your language

Paste a link from X, TikTok, YouTube or Instagram. You get a page like this one.

© 2026 TranslateMom Transcripts Sources Pricing Legal